نوجوان مصنفین کلب

غرور نا کریں۔

تحریر: اقرا حسین

دراصل ھماری زندگی ایک عارضی بھڑکتے ہوئے اس شعلہ کی مانند ہے۔ جو اچانک یوں ختم ہو جاتا ہے کہ اس کے وجود کا نام و نشان ہی مٹ جاتا ہے۔ یہ دنیا ,عیش و عشرت یہ شہرت سب عارضی جھلک ہے۔ انسان کی سانسیں اللہ کے کُن کی محتاج ہیں۔ مگر یہ ناداں انسان اس دنیا کو اپنا اصل ٹھکانا بنا لیتا ہے۔ یہ کہانی ملک عرفان نامی ایک امیر شخص کی ہے۔ جس کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ تھا۔ مگر وہ غرور اور تکبر سے دوسروں کر حقیر سمجھتا تھا۔ جس کی وجہ سے لوگوں کے باہمی تعلق سے جدا رہتا تھا۔ وہ انسان خود کو مکمل سمجھتا تھا اور عام لوگوں میں بیٹھنا اور ان سے بات چیت کرنے کو اپنے وقت کا ضیاع سمجھتا تھا۔ اللہ اس انسان کو زیادہ عطا کرتا ہے جو کہ اللہ کی مخلوق کے لئے احساس کرتا ہے اور ان سے پیار سے پیش آتا ہے۔ مگر میرے تجربات اور مشاہدات کے مطابق اگر انسان کے پاس مال و دولت اور زندگی کا ہر سکون موجود ہو تو اس انسان میں غرور آجاتا ہے۔ اسی طرح ایک دن ملک عرفان کسی کام کے سلسلے میں دوسرے شہر جا رہا ہوتا ہے۔ اچانک اس کی گاڑی کے سامنے ایک آدمی اور ایک بچہ آجاتا ہے۔ بچہ گاڑی سے ٹکراتا ہے اور نیچے گِر جاتا ہے۔ زخموں سے زیادہ خون نکلنے کی وجہ سے بچہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔ ملک عرفان گاڑی سے باہر نکلتا ہے اور غصے سے بوڑھے آدمی کو بولتا ہے کہ میں ایک اہم کام کے سلسلے میں جارہا تھا سارا وقت ضائع کر وادیا۔ بوڑھا آدمی سسکیاں لیتے ہوئے جواب دیتا ہے کہ آپ کی وجہ سے میرا بیٹا بے ہوش ہوگیا۔ اور آپ کو اپنے کام کی پڑی ہے۔ ملک عرفان جواب دیتا ہے کہ آپ اپنے بیٹے کو سنبھالتے نا۔ اب اچانک سے میری گاڑی کے سامنے آگیا۔ بوڑھا آدمی اس کی طرف منہ کرکے دیکھتا ہے اور بولتا ہے کہ جناب اس میں آپ کی غلطی ہے۔ اگر آپ تھوڑی کم سپیڈ سے گاڑی چلاتے تو یہ نہ ہوتا۔ پھر بوڑھا آدمی ملک کے پاؤں گرتا ہے۔ اور بولتا ہے کہ براہِ کرم میرے بیٹے کو ہسپتال لے جائیں ورنہ یہ مر جائے گا۔ اس بوڑھے آدمی کی بے بسی کی یہ حالت تھی کہ اس کے آنسو لگاتار زمین پر گِر رہے تھے۔ مگر ملک عرفان پر ذرہ برابر بھی اثر نہ ہوا۔ پھر ملک عرفان بولا کہ میں کیوں لے جاؤں میں نے ایک ضروری کام جانا ہے۔ یہ لو چند پیسے اور اسے ہسپتا ل لے جاؤ۔ پھر ملک عرفان جیب میں سے چند پیسے نکالتا ہے اور اسے بوڑھے آدمی کی جھولی میں ڈال دیتا ہے۔ پھر وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے۔ بوڑھا آدمی اچانک سے اُٹھتا ہے۔ اور گاڑی کے قریب جا کر اپنی درد بھری آہ سناتا ہے اور بولتا ہےکہ” نہ کر اتنا غرور کہ کون رہا زندگی میں ہمیشہ کے لئے اب آپ مکافاتِ عمل کا انتظار کریں”۔ ملک عرفان بوڑھے کی باتوں کونظر انداز کرتے ہوئے چلا گیا۔ بوڑھا آدمی پریشانی کے عالم میں ادھر اُدھر بھاگامگر اسے مدد کے لئے کوئی نہ ملا آخر کا ر اس کے بچے کی وفات ہو گئی ایسے دن گزرتے گئے ایک رات ملک عرفان سو رہاتھا۔ اسے اچانک سے ایک خواب آیا اس خواب میں اسے وہی بوڑھا نظر آیا۔ وہ بوڑھا آدمی بولا کہ تُو نے ایک بوڑھے آدمی سے اُس کا سہارا چھینا ہے۔ خدا تجھے بھی بے سہارا موت دے گا۔ پھر اس خواب کے پورا ہونے سے پہلے ملک ڈر کے اُٹھ بیٹھا۔ اس خواب نے دو تین دن اسے مسلسل پریشان کیا۔ پھر اس نے سوچا کہ خواب تو عارضی سا منظر ہے۔ اس سے کیا ہوتا ہے۔ اس نے خواب پر توجہ نہ دی اور سو گیا۔ اگلے دن اس نے کسی کاروبار کے سلسلے میں کہیں دور جانا تھا۔ وہ روانہ ہوا۔ راستے میں اچانک اس کی گاڑی کی بریک فیل ہو گئ۔ اور گاڑی بے قابو ہر کر خود بخود اِدھر اُدھر ٹکرانے لگی ۔ اچانک اس کی گاڑی ایک بڑے پتھر سے ٹکرائی اور ملک صاحب ٹکراؤ کی وجہ سے اڑتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلے ۔ ملک عرفان کا ویسا حال ہوا پڑا تھا جیسا کہ اس کی گاڑی کے ساتھ ٹکرانے والے اس بچے کا ہوا تھا۔ خون سے لت پت بے سہارا اس نے مدد کے لئے پکارا مگر راستہ ویران تھا۔ دور دراز تک کوئی نظر نہ آیا۔ پھر اچانک اس کی موت واقع ہوئی وہ پورا دن پوری رات لاوارثوں کی طرح پڑا رہا۔ اگلے دن لوگوں نے اسے دیکھا اور اسے اُٹھا کے لے گئے اورقریبی قبرستان میں دفنا دیا۔ دناوی دولت بھی ملک عرفان کا سہارا نا بن سکی۔ عیش و عشرت، غرور تکبر سب کچھ جس کی بنا پر انسان اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر اور اعلیٰ سمجھتا ہے۔ میرے خیال اور تجربے کے مطابق چاہے جو بھی ہو اگر انسان دوسروں کے ساتھ بُرا کررہا ہے تو روزِقیامت سے پہلے مکافاتِ عمل کو سہہ کر جائے گا۔ اس لئے اے نادان انسان نہ کر اتنا غرور اس عارضی سی دنیا کے عارضی آرام و عیش کو ایک دن سب مٹ جانا ہے۔


ایڈیٹر نوٹ: یہ آمنہ گرلز ہائی سکول لودھراں سے اے ڈی پی جماعت کی طالبہ اقرا حسین نے بھیجی ہے۔ اس میں ملک عرفان ایک فرضی کردار ہے۔ ہم نے املا، گرائمر، اور تحریری قواعد و ضوابط کی پابندی کو بہتر بنانے کے لیے کچھ ترامیم کرنے بعد شائع کی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button