متفرق

نیک دل انسان

تحریر: خدیجہ عبدالجبار

ایک گاؤں میں ایک بزرگ عالم شیر رہتا تھا وہ بہت نیک اور رحم دل تھا۔ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتا تھا۔ اس کا ایک بیٹا طارق تھا۔ طارق بہت شرارتی تھا اور ہر وقت آوارہ گردی میں مصروف رہتا تھا۔ طارق کی حرکتوں سے محلے کے لوگ بہت تنگ آگئے تھے اور وہ ہر عالم شیر سے طارق کی شکایتیں کرتے تھے۔ عالم شیر بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ اور بڑھاپے کی وجہ سے وہ گھر سے باہر کم ہی نکلتا تھا۔ بس وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہر وقت مصروف رہتا تھا۔ وہ وقت پر نماز پڑھنے کے لئے مسجد جایا کرتا تھا۔ ایک دن وہ عصر کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد جارہا تھا۔ اسی دوران عالم شیر نے دیکھا کہ طارق دوسرے لڑکوں کے ساتھ ایک گھر کے سامنے کھڑا ہو کر اس گھر میں پتھر پھینک رہا تھا۔ یہ دیکھ کر بوڑھے باپ کو بہت افسوس ہوا۔ کہ اس کا باپ ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ مگربیٹا ایسی حرکتیں کرتا ہے۔ اس نے جاکر اپنے بیٹے کو ہاتھ سے پکڑا اور اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔ یوں دونوں باپ بیٹا مسجد کی طرف چل پڑے چلتے چلتے بیٹے نے باپ سے پوچھا کہ ابا جان مجھے کہاں لے کر جارہے ہیں؟تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم دونوں مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جارہے ہیں۔ کیونکہ طارق کبھی نماز پڑھنے مسجد نہیں گیا تھا اس لئے وہ بار بار سوال کئے جارہا تھا۔ جب وہ باپ بیٹا مسجد پہنچے تو دونوں نے نماز پڑھی ۔نماز پڑھنے کے بعد جب وہ گھر پہنچے تو باپ نے بیٹے کو سمجھایا۔ کہ میرے بیٹے ایسی حرکتیں کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ عالم شیر نے بیٹے کو کہا کہ جب آپ اُدھر لڑکوں کے ساتھ کھڑے تھےتو وہ آپ اچھا نہیں کر رہے تھے۔ کیونکہ یہ تو آوارہ گرد بچوں کا کام ہے۔ یہ ساری باتیں سنتے سنتے طارق کے دل میں اُتر رہی تھیں۔اور اس کا دل اسلام کی روشنی سے منور ہو رہا تھا۔ تو اس طرح کچھ دن گزر گئے۔ اور یوں طارق بھی اپنے والد عالم شیر کی طرح ایک نیک دل اورمہربان انسان بن گیا۔ اپنے بیٹے کی نیک دلی اور مہربانی دیکھ کرعالم شیر بہت خوش ہوا۔ اب طارق بھی ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہنے لگا۔ اور اس نے آوارہ گردی چھوڑ دی۔ تو اس طرح کچھ عرصہ گزر گیا۔ اور اس کے بوڑھے والدعالم شیر کا انتقال ہو گیا۔ تو اس کے بیٹے کو بہت دُکھ ہوا۔ اور وہ اپنے والد کی کی گئی نصیحتیں یاد کرتا رہتا تھا۔ اور اس نے بھی اس طرح آوارہ گردی کرتے ہوئے لڑکوں کو نصیحتیں کیں اور کہا کہ ایسی حرکتیں کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ تو اس طرح اس نے ان کے دلوں کو بھی اسلام سے منور کردیا۔اور کئی بچے آوارہ گردی چھوڑ کر راہ راست پر آ گئے ۔ یوں اس گاؤں کے لوگ سکون سے رہنے لگے۔


ایڈیٹر نوٹ: یہ تحریرگورنمنٹ گرلز ہائی سکول 49ایم لودھراں سےخدیجہ عبدالجبار نے بھیجی ہے۔ ہم نے املا، گرائمر، اور تحریری قواعد و ضوابط کی پابندی کو بہتر بنانے کے لیے کچھ ترامیم کرنے بعد شائع کی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button