بلاگ

خطرے سے پہلے ہنگامہ

تحریر: عارفہ شفیق

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کے حال ہی میں بھارت  میں بارشوں کےسبب بے حد تبا ہ کاریاں  جاری تھی کہ بھارت کو اپنے ہمسایہ ملک کو پانی دینے کا خیال آیا۔ ہم لوگ جانتے تھے کے جب  بھارت ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے تو وہ پانی پاکستان میں چھوڑ دیتا ہے ۔اس با ر بھی بھارت نے ایسا ہی کیا جب وہ خود ڈوبنے لگا تو  اس نےپاکستان میں پانی چھوڑ دیا ۔ اس پانی کے آتے ہی کئی بستیاں اور فصلیں  ڈوب چکی ہیں۔پانی سیلاب کی صورت میں شدت اختیار کرتا گیا اور دیکھتے ہے دیکھتے  کھیتوں سے ہوتا ہوا شہروں تک پہنچ گیا اور وہاں بھی تباہی پھیلا دی ۔ ہم لوگوں نے سوچا  ہی نہیں تھا کے اس طرح کی صورت حال کا سامناکرنا پڑے گا۔

آئے دن سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی کی خبریں ملتی رہتی تھیں۔ سیلاب کے دوران   ہمارا معمول  زندگی ویسا  نہیں رہتا جیسے عام دنوں میں ہوتا ہے۔  اور ہم لوگ پھر  غفلت کی نیند سے بیدار ہوتے ہیں خبر ملی کے ہمارے گھر  سے کچھ فاصلے پر موجود  دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے  لیکن پھر بھی ہم لوگوں پر کوئی ا ثر نہیں ہوا  ہم لوگ معمول کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ رہی بات ہماری کہ ہم لوگ ایسے ہیں کہ اُڑتی ہوئی خبر کو سن کر یقین کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں ۔ اس طرح ایسے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جن کواپنی زندگیاں اتنی عزیز ہیں کہ مت پوچھئیے ۔ہوا کیا کہ سیلاب کے آنے کا خدشہ ہمیں دن بدن ستانے لگا بلکہ خوابوں میں بھی غوطے لگاتے ہوئے نظر آنے لگے۔ اس صورتحال کہ پیش نظر گھر میں بیٹھک سجائی اور فیصلہ کرنے کو تیار ہوئے ۔ کچھ دیر بعد گھر کے بڑوں نے فیصلہ کیا کہ ہر ایک فیملی اپنے اپنے میکے  چلی جائے۔ تیاریاں شروع گھر کے بچے بوڑھے پریشان اور بات عورتوں کی اُنھیں تو اپنے رشتہ داروں سے ملنے اور میچنگ کے کپڑے خریدنے کی پڑ گئی ۔ جو کہ اُنھوں نے وہاں پر پہننے تھے۔ میں جو کہ سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہوں ۔ کالج کھلنے کی خوشی میں گم اس کی تیاریوں میں مصروف تھی کہ اماں جان نے آکر پییکنگ کا بول دیا ۔ تیاری ہوئی اور شام کی ٹکٹ لیکر کر ہم روانہ ہوئے راستے میں موجود مطمئن لوگوں اور ان کے کام کو دیکھ کر شرمندگی ہوئی کہ پورے علاقے میں صرف ہم ہی تھے جو کہ سیلاب کہ ڈر سے بھاگ رہے تھے ۔

اس طرح کچھ ہی دنوں میں ہمارا پورا جوائنٹ فیملی کا سسٹم پاش پاش ہو گیا۔ کوئی فیصل آباد تو کوئی احمد پور کوئی بہاولپور  تو کوئی ساہیوال اس طرح سارا شہر بکھر گیا۔ چلو پھر ہم خیر سے اپنے ماموں کے گھر پہنچے ہر رشتے دار ہمارے پاس آکر ہمارے حالات سے غمگین ہم پر ترس کھاتا اور کہتا ہائے اللہ خیر کرے کیا حال ہو گیاہے آپ لوگوں کا ۔ اس کے بعد روز ٹی وی چلا کر اپنے علاقے کے حالات سے با خبر ہونے کی کوشش کرتے تو کسی چینل پر   کسی خبر میں  ھمارے  علاقےکا تو کوئی نام و نشان نہ ملتا تھا۔ شرمندگی کے مارے دن گزارتے رہے۔ اس طرح کچھ دنوں تک اُدھر رُکے دعوتیں اُڑاتے رہے سارے رشتہ داروں سے حال احوال دریافت کیا۔ قلعہ دراوڑ جو کہ احمد پور سے آگے چولستان میں واقع ہے۔وہاں گئے خوب مزے کئے دیکھنے سے معلوم نہ ہوتا تھا کہ سیلاب سے ڈر کر بھاگی ہوئی عوام ہے۔ اس طرح دن گزرتے گئے پاکستان اور افغانستان کے ٹورنامنٹ انجوائے کیے۔ کچھ دنوں بعد دادا جان کا ٹیلی فون آیا تو فرمانے لگے کہ واپس آجاؤ اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ سنتے ہی دل میں خوشی کی لہر جاگ گئی ۔ لیکن دل میں شرمندگی تھی کہ ہم خطرہ کو بھانپے بغیر بھاگ آئے ۔ لیکن خیر گھر تو آنا ہی تھا گھر تک راستے کے درمیان دریائے ستلج کا منظر دیکھ کر حیران کن بات یہ تھی کہ پانی اُتنا کا  اُتنا ہی تھا ۔

گھر کی گلی میں داخل ہوتے ہی قریبی ہمسایوں پر نظر پڑی جو کہ ہمیں دیکھ کر ہنس رہے تھے گو یا یوں کہہ رہے تھے کہ آگئے ہو دیکھو ہم تو یہیں ہیں ۔ یقین جانیں علاقے کا ایک ایک فرد اپنی اسی جگہ اور کام میں مصروف تھا لیکن ہم لوگ ایک لمبےسفر سے ہو کر  واپس آئے تھے ۔ایک اور بات بتاتی چلوں کہ دریا کا پانی اُتنا کا اُتنا ہی ہے اور سیلاب کا نام ونشان نہیں ہے۔ اللہ نے قسمت میں لکھا تھا کہ ہم نے بے وجہ بھاگنا ہے۔ اور اس خطرے سے جو کہ ابھی تک آیا ہی نہیں ۔ دادا جان نے فرمایا کہ اب جب تک چارپائی کے نیچے پانی نہیں آجاتا ہم کہیں نہیں جائیں گے۔

ایڈیٹر نوٹ: یہ تحریر گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول آدم واہن لودھراں سے بارویں جماعت کے طالب علم عارفہ شفیق  نے بھیجی ہے۔ ہم نے املا، گرائمر، اور تحریری قواعد و ضوابط کی پابندی کو بہتر بنانے کے لیے کچھ ترامیم کی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button