بلاگ

خوبصورت شہزادی اور ظالم جادوگر

تحریر: عمائمہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ محل میں ایک راجا اور رانی رہتے تھے ۔ کافی عرصے سے اُن کی کوئی اولاد نہ تھی رانی کی خواہش تھی کہ اُن کی ایک خوبصورت سی بیٹی ہو۔ایک دن رانی اپنے باغ میں ٹہل رہی تھی کہ ایک چڑیا اچانک سے آئی اور اس کے کندھے پر بیٹھ گئی۔ جو کہ  درحقیقت چڑیا نہ تھی بلکہ ایک جادو گر تھا۔ اس نے رانی سے کہا تم اکیلی باغ میں کیوں ٹہل رہی ہو؟  رانی نے کہا میں اکیلی تھی اس لئے باغ میں ۔پھر رانی نے دیکھا کہ انسان کی آواز میں  کون ہے  جو اس سے سوال کررہا ہے۔ اس نے دیکھا کہ اس کے پیچھے  کالے لباس میں ایک آدمی کھڑا ہے ۔رانی نے اُس  سے  پوچھا کہ تم کون ہو۔ رانی کے پوچھنے پر اس جادوگر نے کہا کہ میں جادوگر ہوں ۔رانی نے کہا کہ کافی عرصے سے میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ جادو گر یہ سن کر وہاں سے غائب ہو گیا ۔ اسی طرح دن گزرتے گئے رانی کے ہاں  ایک بہت ہی خوبصورت نیلی آنکھوں والی لڑکی  کی پیدائش  ہوئی ۔محل میں  جشن منانے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ کافی عرصے بعد محل میں کوئی شہزادی پیدا ہوئی تھی ۔راجا بہت خوش تھا اس لئے انہوں نے محل میں ایک جشن رکھا اس جشن کی خبر ہر طرف پھیل گئی تھی اور یہ خبر اُس جادوگر تک بھی پہنچ چکی تھی ۔جب جشن کا دن آیاتو ہر جگہ سے راجا رانی  سمیت شہزادے اُس جشن کے لئے اکٹھے ہوئے۔ اُس دن وہ جادوگر بھی بھیس بدل کر محل میں داخل ہوگیا اور شہزادی کے کمرے میں داخل ہوا وہاں پر وہ اپنی اصل حالت میں واپس آیا اور شہزادی کو اُٹھا کر سب مہمانوں کے سامنے سے لے گیا اور کوئی بھی کچھ نہ کر سکا۔ سب نے اُس جادوگر کو ڈھوندھنے کی کوشش کی مگر وہ سب ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔ اسی طرح کافی سال گزر گئے اب شہزادی بڑی ہو چکی تھی جادوگر نے اس کا نام روشنی رکھا ہوا تھا اس لئے شہزادی کو جادوگر روشنی کہتا تھا۔

ایک دن بادشاہ جب شکار پر گیا تو اس نے جنگل میں بہت پرانا اور ٹوٹا ہوا مکان دیکھا بادشاہ حیران ہوا کہ اس ویران اور سنسان سے جنگل میں کون سا ایسا شخص رہتا ہوگا جس کے پاس گھر میں کوئی کھانے کا سامان نہ ہو۔ جب بادشاہ اس گھر کے قریب گیا ۔ راجا جیسے ہی کمرے میں داخل ہواتو دیکھا کہ وہاں پر ایک لڑکی گھر کا کام کر رہی تھی ۔ جب اُس لڑکی نے راجہ کی طرف دیکھا تو راجہ کو شک ہوا کہ یہ اس کی بیٹی ہو سکتی ہے۔ راجہ نے لڑکی کو غور سے دیکھا اورپہچان لیا کہ  یہ نیلی آنکھوں والی لڑکی اُس کی بیٹی ہے۔ براجہ نے اسی لڑکی یعنی اپنی بیٹی کو گلے لگایا۔مگر اس سے  پوچھا کہ تم کون ہو اور یہاں ویران جنگل میں کس کے پاس رہتی ہو تو روشنی نے کہا کہ میرا نام روشنی ہے میں کافی عرصہ سے یہاں رہتی ہوں۔ مجھے ایک  شخص  کہیں سے یہاں لایا تھا ۔جو ہر وقت ایک ہی کالے رنگ کا لباس پہنتا ہے۔ وہ بڑا ظالم ہے گھر کے سارے کام مجھ سے کرواتا ہے۔ یہ شخص  بڑا ظالم ہے۔ باتوں باتوں میں لڑکی کے ذہن میں یہ نہ رہا کہ وہ  راجہ سے پوچھے کہ  آپ یہاں کیا کرنے آئے ہیں آپ کون ہیں۔ لڑکی بہت زیادہ خوف زدہ تھی کیونکہ وہ اس شخص سے ڈرتی تھی ۔کیونکہ اگر گھر کا کوئی کام رہ جاتا تو وہ لڑکی پر تشدد کا نشانہ بناتا تھا اس پر ظلم کرتا اور کھانے کو بھی بعض اوقا ت کچھ نہ دیتا تھا۔ راجہ کو اس ظالم جادوگر کا علم ہو چکا تھا وہ چاہتا تھا کہ جادوگر کو اُس کے کئے کی سزا ملے  اس لئے اس نے پھر اپنی بیٹی کو سب کچھ بتایا۔ جو اس کے ساتھ ہوا کہ کیسے جادوگر تمہیں یہاں لایا ۔

راجا اپنے گھر گیا اور رانی کو بتایا کہ ہماری بیٹی مل گئی ہے۔ اور وہ کل گھر آئے گی۔پھر راجہ نے بڑے بڑے جادوگروں کو بلایا اور مشورہ کیا۔ اگلے دن راجہ کچھ جادوگروں کیساتھ پھر جنگل میں گیا۔ کیونکہ اس بار وہ جادوگر کواس کے عمل کا بدلہ دینا چاہتا تھا ۔اس لئے وہ پوری تیاری کے ساتھ گیا۔کیونکہ راجہ نے جادوگر کی کمزوری کو اپنی بیٹی کے ذریعے جان لیا تھا کہ جادوگر کا جادو رات کے  وقت کام نہیں کرتا ۔اس لئے وہ رات کے وقت وہاں پر گیا۔ اورجادوگروں کیساتھ مل کر اس ظالم  جادوگر کا مقابلہ کیا اور جادوگر کو ایک جادوئی بوتل میں قید کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور بوتل میں بند کر دیاتاکہ وہ کسی اور کو نقصان نہ پہنچائےاور پھر وہ اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے آیا۔ اور پھر سب نے شہزادی کےگھر آنے پر خوشی منائی۔ اس طرح ظالم جادوگر اپنے انجام کو پہنچا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button